شرح بیج
ایک ایکڑ کاشت کیلئے عموماً دو سے تین کلوگرام پیاز کا بیج اور چار سے پانچ مرلہ زمین درکار ہوتی ہے۔ لیکن پیاز کی قسم اور وقت کاشت کی مناسبت سے پیاز کی شرح بیج میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ بیج کا اُگاؤ عموماً ایک سال تک ہی بہتر رہتا ہے۔
پیاز پنیری کی تیاری و کاشت
پیاز کی پنیری ایسی زمین میں کاشت کی جاتی ہے جس میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ پنیری کاشت کرنے سے دو ماہ قبل زمین میں گوبر کی گلی سڑی کھاد ایک من فی مرلہ کے حساب سے اچھی طرح ملا کر آبپاشی کر دی جاتی ہے۔ پھر وتر آنے پر دو سے تین دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ جڑی بوٹیاں اُگ آئیں۔ بوائی کے وقت زمین کو باریک اور ہموار تیار کیا جاتا ہے۔ پنیری کو بیماریوں خاص طور پر روئیں دار پھپوندی سے بچاؤ کیلئے بیج کو پھپھوندی کُش زہر تھائیوفینیٹ میتھائل دو گرام فی کلوگرام بیج لگا کر کاشت کرنا چاہیئے۔
نرسری کیلئے پیاز کا بیج دو طریقوں سے بویا جاتا ہے۔ پہلے طریقہ یں چارسے چھ انچ اونچی، چار سے پانچ فٹ چوڑی اور دس سے بیس فٹ لمبی پٹڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔ پھر ان پٹڑیوں میں دو سے تین انچ کے فاصلے پر ایک انچ گہری قطاروں میں بیج بویا جاتا ہے۔ دوسرے طریقہ میں ایک میٹر چوڑی اور دو میٹر لمبی کیاریوں میں بیج کا چھٹہ کیا جاتا ہے۔ چھٹے سے کاشتہ فصل کا کافی بیج کیڑے اٹھا کر لے جاسکتے ہیں۔ ان کیڑوں کے خاتمہ کے لئے نرسری کے گردا گرد امیڈاکلوپرڈ پاوڈر کا چھڑکاؤ یا امیڈاکلوپرڈ دو سو ایس ایل سو لیٹر پانی ملا کر سپرے کیا جاتی ہے۔ چھٹے کی صورت میں اگر زیادہ گھنی نرسری اگ آئے تو نہ صرف اس پر بیماری کا حملہ زیادہ ہوتا ہے بلکہ کمزور نرسری سے چلنے والی فصل میں بہت سے پودے مر جاتے ہیں۔
پیاز پنیری کی آبپاشی
پیاز کو اگاؤ کے لئے زیادہ نمی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لئے اگاؤمکمل ہونے تک روزانہ فوارے کی مدد سے آبپاشی کرنی چاہیئے۔ اُگاؤ کے بعد نرسری کو ہلکی آبپاشی کی جاتی ہے۔ اگیتی کاشت کی صورت میں نمی برقرار رکھنے کے لئے اس پر پرالی یا سرکنڈا وغیرہ ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔اگر زمین ہلکی میرا ہوتو فوارے سے پانی ڈالنے کی بجائے ہلکی آبپاشی بھی کی جاسکتی ہے۔ نرسری کو منتقل کرنے سے ایک ہفتہ آبپاشی بند کر دینی چاہیئے۔ تاکہ پودے سخت جان ہو جائے۔ نرسری اُگھاڑتے وقت زمین میں وتر موجود ہونا چاہئے تاکہ پودے اکھاڑنے میں سہولت رہے۔ نرسری کو اکھاڑنے کے بعد اسی دن منتقل کردینا چاہیئے۔
اگر منتقل کرنے سے پہلے کھڑی نرسری پر پھپھوند کش زہر مینکوزیب + میٹالکسل اڑسٹھ ڈبلیو جی دو سو پچاس گرام یا پروپینب ستر ڈبلیو پی پانچ سو گرام سولٹر پانی میں ملا کر سپرے کر دی جائے تو پودے ابتدائی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ زہر لگانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ منتقلی سے پہلے نرسری کو مز کورہ زہروں کے آبی محلول میں ڈبویا جائے۔












