رائی گھاس سرد موسم کی فصل ہے۔ زیادہ گرمی رائی گھاس کی فصل کو متاثر کرتی ہے۔ اگر رائی گھاس کو برسیم کے ساتھ بویا جائے تو اکیلی برسیم کی نسبت زیادہ چارہ میسر آتا ہے۔ دسمبر جنوری میں جب پہلی کٹائی اور سردیوں میں کورے کی وجہ سے برسیم کا چارہ کم ہوتا ہے تو اُس وقت رائی گھاس کی پیداوار عروج پر ہوتی ہے۔
رائی گھاس کیلئے موزوں زمین اورتیاری
آبپاش علاقے یا زیادہ بارش والے علاقے رائی گھاس کی کاشت کے لئے موزوں ہوتے ہیں۔رائی گھاس کو سیم تھور سے پاک میرا سے بھاری میرا زمین میں کاشت کیا جاسکتا ہے۔ رائی گھاس کی کاشت کے لئے زمین میں ایک بار مٹی پلٹنے والا ہل، چار دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو نرم کیا جاتا ہے۔
رائی گھاس شرح بیج
رائی گھاس کی کاشت کے لئے چھ تا آٹھ کلو گرام صاف ستھرا بیج فی ایکڑ استعمال ہوتا ہے۔ برسیم کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں چھ کلوگرام برسیم اور چار کلوگرام رائی گھاس کا بیج استعمال ہوتا ہے۔
رائی گھاس طریقہ کاشت
رائی گھاس کی کاشت کیلئے وتر زمین میں چھٹہ کر کہ سہاگہ دیا جاتا ہے۔ صرف رائی گھاس کی کاشت کی صورت میں بوائی اکتوبر سے نومبر تک اور برسیم کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں یکم اکتوبر سے اوائل نومبر تک کی جاتی ہے۔ مخلوط کاشت کی صورت میں کھڑے پانی میں پہلے برسیم کا پھر رائی گھاس کا چھٹہ دیا جاتا ہے۔
رائی گھاس آبپاشی کا پلان
رائی گھاس کو تین سے چار پانی لگائے جاتے ہیں۔ پہلا پانی بوائی کے تین ہفتے بعد اور پھر حسب ضرورت پانی لگایا جاتا ہے۔
رائی گھاس کھادوں کا پلان
رائی گھاس کو بوائی کے وقت ایک بوری ڈی اے پی ڈالی جاتی ہے۔ اسکے بعد پہلے پانی پر ایک بوری یوریا ڈالی جاتی ہے۔ پھرہر کٹائی پرایک بوری یوریا ڈالی جاتی ہے۔ رائی گھاس کی برسیم کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں دو بوری ڈی اے پی بوائی کے وقت ڈالی جاتی ہے۔
رائی گھاس برداشت
رائی گھاس کی چارہ والی فصل کی پہلی کٹائی ساٹھ دن بعد کی جاتی ہے اور باقی کٹائیاں پینتالیس سے پچاس دن بعد کی جاتی ہیں۔ بیج والی فصل کو پختگی سے پہلے کاٹ لیا جاتا ہے۔














