چنے کا شمار دالوں میں اہم ترین فصلوں میں ہوتا ہے۔  دیگر پھلی دار فصلوں کی طرح چنے کی جڑوں میں بھی نائٹروجن پکڑنے والے اجزاء کی موجودگی کے باعث زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے  ۔ چنا عام طور پر بارانی اور ٹھنڈے موسم کی فصل ہے۔ چنے کے سائز اور بہتر پیداوار کے لیے  زیادہ نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔   جنوری میں ہلکی بارش اور مارچ کے شروع میں درمیانی بارش سے چنے کی فصل بہتر ہوتی ہے۔ اگر سردی میں بارش نہ ہو یا خلاف معمول زیادہ بارش ہو جائے تو فصل کو نقصان ہوتا ہے۔  فروری میں ہوا میں نمی کا تناسب اسی فیصد سے زیادہ اور درجہ حرارت بیس ڈگری سے کم ہو جائے تو جھلساؤ کی بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

چنا  موزوں زمین و تیاری

چنے کے لیے  اچھے نکاس والی ہلکی میرا اور ریتلی زمین موزوں  ہوتی ہے۔ کم آکسیجن کی وجہ سے اسکی جڑیں خوراک کے اجزا جزب نہیں کر سکتی۔ اس لیے کلراٹھی اور بھاری میرا اس کی کاشت کے لیے نا مناسب ہیں۔ آبپاش علاقوں میں چنے کی کاشت سے  پہلے گہرا ہل چلا کر خود رو گھاس اور جڑی بوٹیوں کو تلف  کیا جاتا ہے ۔پھر اس کے بعد ایک مرتبہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو اچھی طرح ہموار کر کے  چنے کی کاشت کی جاتی ہے۔  بارانی علاقوں میں ریتلی اور نرم زمین میں پہلے سے موجود وتر میں زمین تیاری کیے بغیر  چنے کی بوائی  کی جاتی ہے  تاکہ وتر ضائع نہ ہو ۔

چنا شرح بیج

چنے کی فی ایکڑ کاشت  کیلئے موٹے دانے والی اقسام کا تیس تا پینتیس کلوگرام اور درمیانے سائز کے دانوں والی اقسام کا پچیس  تا تیس کلو گرام صاف بیج  استعمال  ہوتا ہے ۔ آبپاش علاقوں  میں  میرا زمین پر چنے کی  مشینی کاشت کی صورت میں سولہ کلو گرام بیج بذریعہ ڈرل استعمال ہوتا ہے۔

چنا وقت و طریقہ کاشت

چنا آخر ستمبر سے  اکتوبرتک کاشت کیا جاتا ہے۔ چاول  کی کاشت کے علاقوں میں چنے کی بوائی نومبر کے شروع میں کی جاتی ہے۔ چھولیا اُگانے  کیلئے  اکتوبر کا مہینہ بہتر ہے۔ چنے کی بوائی عام طور پر  ہاتھوں سے کی جاسکتی ہے لیکن بہتر نتائج کے لیئے  ڈرل کی بوائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔  بارانی علاقوں  میں  بہتر  اُگاؤ کیلئے چنے کے  بیج کوبوائی سے چھ سے آٹھ گھنٹے   پہلے پانی  میں بھگو کر تھوڑی دیر خشک کرکے بوائی کرنی چاہیئے۔    نرم اور رتیلی زمین میں پہلے سے محفوظ شدہ وتر میں بیج کی گہرائی  دو سے تین انچ  رکھی جاتی ہے ۔  زیادہ ریتلے بارانی علاقوں میں ڈرل سے  بوائی کو ترجیح دی جاتی ہے اور  بیج    کی گہرائی چھ سے نو انچ رکھی جاتی ہے۔  قطاروں کا  فاصلہ  ڈیڑھ فٹ رکھا جاتا ہے۔  آبپاش علاقوں میں قطاروں کا درمیانی  فاصلہ  ایک فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ چھ انچ  رکھا جاتا ہے۔   البتہ  زیادہ بارش والے  آبپاش علاقوں میں چنا کاشت کرنا ہو تو  قطاروں کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ  ساڑھے سات انچ  رکھا جاتا ہے۔  

بعض اوقات چنے کی فصل کا قد بارش، کھاد کی کثرت یا اگیتی کاشت جیسے عوامل کے باعث بڑھنے لگتا ہے- ایسی صورت حال میں فصل کومناسب حد تک پانی کا  سوکا لگا کر یا  پھر کاشت کے دو ماہ بعد شاخوں کو تراش کر مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔    

چنا برداشت

چنے کی فصل عموماً کاشت کے ایک سو تیس سے ایک سو پچاس دنوں میں تیار ہو جاتی ہے۔ نوے فیصد ڈوڈیاں پکنے پرفصل کو کاٹ کر خشک کرلیا جاتا ہے اور پھر اسکی گہائی کی جاتی ہے۔ جس کےلئے کم رفتار پر تھریشر بھی استعمال کر سکتے ہیں -     تھل ایریا میں فصل موسم کی مناسبت سے آخر مارچ تا شروع اپریل برداشت کے لیے پک کر تیار ہو جاتی ہے۔اگرچنے کی  فصل کی برداشت میں تاخیر کری جائے  تو  ٹاڈ  جھڑنے کے باعث پیداوار میں کمی ہوسکتی ہے۔  چنے کی فصل کی برداشت صبح کے وقت کریں تاکہ اوس کے باعث ڈوڈیاں نہ جھڑیں اور اگر فصل سے بیج محفوظ کرنا ہو تو فصل کی برداشت سے پہلے اسے بیماری سے متاثر پودوں اور دیگر اقسام سے صاف کرلیں ۔

چنا فصل ذخیرہ کرنا

 چنے کی فصل کو صاف اور خشک کرنے کے بعد  سٹور میں ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔  چنے کے سٹور کو کیڑوں سے بچانے کیلئے   سات کلوگرام خشک لکڑی فی ہزار مکعب (کیوبک) فٹ جلائیں یہاں تک کہ درجہ حرارت کچھ  دیر کے لیئے چھیاسٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے۔ اس کے بعد سٹور کو اڑتالیس گھنٹے تک بند کر دیں۔ نہی تو ایک لیٹرڈیلٹامیتھرین سو لیٹر پانی میں ملا کر سٹور میں ہر طرف سپرے کر دیں۔ سٹور میں موجود استعمال شدہ بوریوں کو بھی اسی میں ڈبو لیں اور نئی بوریوں کو دونوں جانب باہرسے سپرے کر لیں اور بوریوں کے خشک ہونے پر چنے کی فصل کو ان میں محفوظ کر لیں۔